حکومت کا صدرِ مملکت کے الیکشن اور نیب آرڈیننس ترمیمی بل پر دستخط نہ کرنے پر بڑا فیصلہ

0

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے الیکشن اور نیب آرڈیننس ترمیمی بل پر دستخط نہ کرنے پر حکومت نے بڑا فیصلہ کیا ہے۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے صدرِ مملکت کی جانب سے بغیر دستخط کے واپس کیے گئے الیکشن ترمیمی بل اور نیب ترمیمی بل اسپیکر راجہ پرویز اشرف کو بھجوا دئیے ہیں۔صدرِ مملکت کی جانب سے دستخط نہ کرنے پر حکومت نے اب دونوں بلوں کے گزٹ نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
گزٹ نوٹیفیکیشن دس روز میں جاری کر دیا جائے گا۔مشترکہ اجلاس کی منظوری کے بعد دونوں بل گزٹ نوٹیفیکیشن سے قانون بن جائیں گے۔ وفاقی وزیر اقتصادی امور سردار ایاز صادق نے کہا تھا کہ صدر مملکت نے انتخابی اصلاحات بل کے حوالے سے جو طرز عمل اختیار کیا وہ افسوسناک ہے، وہ پی ٹی آئی کے نہیں بلکہ صدر پاکستان ہیں، ملک عمران خان کی مرضی اور منشا پر نہیں بلکہ آئین و قانون پر چلے گا۔

۔ پیر کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر سردار ایاز صادق نے کہا کہ کل صدر مملکت نے الیکشن اصلاحات کا بل دوسری مرتبہ واپس بھیج دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کے حوالے سے 117 میٹنگز ہوئی ہیں، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے دو ممالک میں وفود بھیجے اور یہ فیصلہ ہوا کہ جب تک ٹرائل اور ٹیسٹ نہ کیا جائے اس وقت تک ای وی ایم مشین استعمال نہیں ہو سکتی، ان 117 میٹنگز میں تمام سیاسی جماعتیں موجود تھیں، اس میں الیکشن کمیشن سے تجاویز بھی مانگی گئی تھیں۔
اجلاسوں میں الیکشن کمیشن کی مشکلات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سردار ایاز صادق نے کہا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین اس وقت الیکشن کمشنر کو ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں حالانکہ اس الیکشن کمشنر کی نامزدگی کی تجویز انہوں نے خود دی تھی اور خود انہیں لگایا بھی تھا۔خیال رہے کہ صدرمملکت عارف علوی نے نیب ترمیمی بل 2022 بھی بغیردستخط کے وزیراعظم کوواپس کردیا تھا۔صدرمملکت عارف علوی کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں پارلیمنٹ سے منظور شدہ یہ بل رجعت پسندانہ نوعیت کا ہے لہذا ان کا ضمیراجازت نہیں دیتا کہ وہ اس پر دستخط کریں.

__________________________________________________________________

بارشوں سے کراچی سمیت بڑے شہروں میں سیلاب کا واضح خطرہ ہے: شیری رحمٰن

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.